ابتدائی تعلیم میں مادری زبان کا کلیدی کردار

MOHAMMED HANIF

میرے گاؤں کے سکول، گورنمنٹ پرائمری بوائز سکول میں جانے والے زیادہ تر بچے تیسری یا چوتھی جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیتے تھے۔ اس میں ان کی غلطی نہیں تھی اور نہ ہی میرے اساتذہ کی۔ وہ تو کافی ملنسار اور محنتی تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جس زبان میں وہ بچوں کو پڑھا رہے تھے وہ ان بچوں کی سمجھ سے باہر تھی۔ ہم بچوں نے ریڈیو پر اُردو سنی تو تھی لیکن ہم آپس میں اُردو میں گفتگو نہیں کرسکتے تھے۔ یہ کافی ڈراؤنا تجربہ تھا۔ آپ خود تصور کریں، آپ اپنے خاندان کے سکول جانے والے پہلے فرد ہوں، آپ کو سکول کا یونیفا رم پہننا ہو،سکول کی تیاری کرنی ہو اور پھر سکول جا کر اُس زبان کا سامنا بھی کرنا ہو جو اس نے آج سے پہلے نہ کبھی پڑھی ہو اور نہ ہی سنی ہو۔

ایک پانچ سالہ بچے کو دنیا کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف ان چیزوں کے بارے میں بتا سکتا ہے جو وہ روزانہ دیکھتا ہو۔ لیکن ہماری کتابوں میں تو سب کچھ الٹ تھا۔ جس کو ہم مجھ کہتے تھے وہ مجھ نہیں بھینس تھی۔ جسے ہم ککڑی کہتے تھے وہ مرغی ہو گئی تھی۔ سکول جا کر احساس ہوا کہ دنیا وہ نہیں جو ہم روزانہ دیکھتے تھے۔ کچھ الفاظ مانوس تھے لیکن ان کو اُردو کے جملوں میں استعمال کرنا نہایت کھٹن تھا۔ میرے کئی ہم جماعت اپنے خاندان کے سکول جانے والے پہلے فردتھے اور ان کے لیے اپنے گھر والوں سے پڑھائی کی مدد ملنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ اساتذہ تو پوری کوشش کرتے تھے کہ وہ دشوار الفاظ کا پنجابی میں ترجمہ کر کے بتا سکیں۔ انھوں نے تو ہمیں ریاضی کا پہاڑا بھی پنجابی میں گا کر سکھایا تھا۔ لیکن ان کی بھی  اپنی مجبوریاں تھیں، کتابیں اردو میں تھیں، امتحانات بھی اُردو میں تھے۔ اگر آپ کو اردو نہیں آتی تو آپ نہ ریاضی پڑھ سکتے تھے نہ اسلامیات، اور نہ ہی معاشرتی علوم جو کہ آگے چل کر پاک سٹڈیز بن گیا۔

یہی وجہ ہے کہ  ہر سال میری جماعت کا حجم کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ اگر آپ تیسری جماعت بھی پاس نہ کر سکیں تو یہ سمجھنا جائز ہے کہ پڑھنا لکھناآپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ کھیتی باڑی میں والدین کی  مدد کی جائےیا بندہ  بس کنڈکٹر بن جائے، جو کہ ہمارے پرائمری سکول چھوڑ دینے والے بچوں کی نظر میں ایک قابل فخر اور اچھی جاب تھی۔  ہمارا تعلیمی نظام بچوں کی تعلیم میں دلچسپی بڑھانے کی بجائے انہیں تعلیم سے دور کرتا ہے۔ گھر  سے ملنے والی تعلیمی مدد یا رٹا لگانے میں مہارت حاصل کرنے کی وجہ سے میرے جیسے چند بچے پرائمری پاس کرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ہم نے ایک مضمون پورا یاد کرلیا تھا جس کا عنوان تھا ’میری گائے‘۔ ہم نے قرآن ِ پاک کی چند آیات یاد کر لی تھیں لیکن ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں یا کیا لکھ رہے ہیں۔ بچپن کے اس تجربے نے میرے ذہن پراتنا گہرا اثر ڈالا ہے کہ اب بھی میں کوئی جملہ لکھتا ہوں تو میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے یا  نہیں اور میرے ذہن میں آنے والے خیال کا مناسب  اظہار  ہے بھی یا نہیں ۔

پرائمری سکول ختم کرنے کے بعد ہم میں سے جو طلبہ گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول اوکاڑہ گئے انھیں وہاں بھی اسی طرح کی  مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجہاں ہم نے ایک نیا سبجیکٹ پڑھنا شروع کیا جسے انگریزی کہتے ہیں۔ ہم نے رٹا لگا کر اے بی سی پڑھی اور ’گڈ بائے مسٹر چپس‘  کے چند حصے یاد کیے۔ سائنس ، کیمسٹری اور ریاضی کے فارمولے  بھی رٹے لگا کریاد کرنے کے علاوہ حیوانوں اور پودوں کی خصوصیات کو یاد کیا۔ ہم نے وہ سب کچھ اپنے ذہنوں میں بٹھایا جس کی ہمیں کوئی سمجھ نہیں تھی۔ ہماری کلاس میں کوئی نہ کوئی ایک ایسا ذہین طالبعلم ضرور ہوتا تھا، جو عام طور پر ہمارے استاد کا ہی بیٹا ہوتا تھا، جو باقی بچوں کی مدد کرتا تھا۔

ہمارے تعلیمی نظام کی وجہ سے 60 بچوں کی کلاس میں سےصرف ایک بچہ ایسا ہوتا ہے جو ڈاکٹر بن جائے، پروفیسر بن جائے، سرکاری افسر لگ جائے لیکن باقی تمام بچے ساری عمر تذبذب کا شکار رہتے ہیں ۔ ہمارے پرائمری سکول میں ہم بچوں کو ایک خط لکھنا سکھایا گیا جسے مویشی چراتے وقت ساتھ رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ اس خط میں جانور کی تفصیل اور معلومات درج ہوتی ہیں اور یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ یہ جانور میرا ہے اور چُرایا ہوا نہیں ہے۔ ہم میں سے جن بچوں نے اس خط کا رٹا لگا لیا وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ جو جانوروں کے خد و خال میں ہی کھو گئے وہ انھی جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کے حد تک محدود ہو گئے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اُس خط کے آخری جملے کی مانند ہے۔ ’تاکہ سند رہے اور باوقت ضرورت کام آئے۔‘  میں اپنی پوری زندگی میں آج تک کسی ایسے شخص سے نہیں ملا ہوں جس نے وہ خط واقعی میں کبھی لکھا ہو اور میں آج تک یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ خط کے اُس آخری جملے کا کیا مطلب ہے۔

اس مضمون کے مصنف ایک معروف کالم نویس اور افسانہ نگار ہیں۔

انگریزی سے ماخوذ

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Abbas Nasir

Note from the Editor

The voter must make their ballot choice conditional to TaleemDo!

Shanza Khalid

Ali Muhammad Khan (NA-22) Commits to Focus on Teachers

Asad Shabbir

Fuelling Pakistan with Education

Pakistan has well-evidenced history of education taking backseat

Alif Ailaan Report

Bahawalpur to see steps for better education after elections

Candidates endorse charter of demands calling for quality schools

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں