الیکشن اورا علیٰ تعلیم

Saadat Anwar Siddiqi

جب سے ہوش سنبھالا ہےیہی سنتے آئے ہیں کہ ہم ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسا لگتاہےکہ ملکی حالات بدسے بدتر ہوتے جا رہےہیں۔ میراتعلق اس نسل سے ہےجو قیامِ پاکستان کے چند سالوں  بعد پیدا ہوئی۔ پاکستان بنتے دیکھا تو نہیں مگر جن لوگوں نے پاکستان بنایا ،ان کی باتیں اور کارنامے بہت سنے۔ آج کل ایسا محسوس ہوتاہےکہ ہر قوت  پاکستان کے وجود یا اس میں بسنے والے لوگوں کی ترقی  اور خوشخالی کی دشمن ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال کے زیرِ اثر لوگوں کی ایک بڑی تعداد پرکشش  زندگی کی تلاش میں ترقی یافتہ ملکوں کا رُخ کر رہی ہے

 کبھی ہم نے غور کیا ہےکہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے ۔ وہ کیاوجوہات تھیں جن کی وجہ سے ترقی کے راستے پر گامزن قوم بھٹک گئی اور انتشار کا شکار ہوگئی ۔اس کا جواب اگر چہ اتناآسان نہیں ہے مگر  میری ناقص رائے کے مطابق ملک کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ہے جو  نااہل ہونے کے علاوہ بد عنوانی کا شکار بھی تھے ۔

پچھلے چند سالوں میں دولت کمانے کے نت نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں جن سے ایک طریقہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں  ۔ایک زمانہ وہ بھی تھا جب پرائیویٹ  سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں  نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھیں اورسرکاری ادارے ہی تعلیم کےفروغ کیلئے کام کرتے تھے ۔ مگر اب  تعلیم  کے مالک سیاستدان اور پراپرٹی ڈیلربن گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے  نشریاتی اور  صحافتی ادارے بھی قائم کر لیے ہیں تاکہ پراپیگنڈہ  اور سیاسی اجارہ داری بھی قائم کی جاسکی ۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے  اس اہم قومی مسئلے پر بات کرنا اور اس کا حل نکالنا ضروری نہیں سمجھا ۔ پاکستان کے سب سے اہم مسائل تعلیم، صحت، بیروزگاری، توانائی اور پانی کی کمی ہیں ۔

Anwar Yousafzai
دو سو سے زائد بچے کھلے آسمان تلے حصولِ تعلیم پر مجبور
موسم خراب ہو تو اسکول کی چھٹی کرنی پڑتی ہے

کسی بھی ملک  کو کو ئی بھی گھمبیر مسئلہ درپیش ہو جیسے زرعی پیداوار میں کمی، توانائی کا بحران، ماحولیاتی آلودگی، نا گہانی اموات، فصلوں پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ وغیرہ ان سب کا حل ایک ا علیٰ تعلیمی نظام فراہم کرتاہے۔ یعنی اگر اس کا تعلیمی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتو یہ سب مسائل ملک کے اندر ہی حل ہوسکتےہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ملک   قدرتی وسائل سےمالا مال ہے مگر ہم ان  وسائل سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں ابھی تک اس لیے   قاصر ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ور صلاحیتوں سے آراستہ افرادی قوت نہیں پیدا کر رہا۔ ہم فرسودہ نصاب کوابھی تک رائج کیےہوئے ہیں اور اگر کچھ نوجوان ملک سے باہر اعلیٰ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوکر  واپس آبھی جاتے ہیں تو یہاں کے فرسودہ نظامِ تعلیم کی بدولت وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنی حاصل کردہ صلاحیتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ہر طرح  کے عملی تجربات کا دارومدار بھی بیرون ملک سے منگوائے گئے آلات اور کیمیاوی مرکبات پر ہوتاہے  اس لیےبھی جتنی دیر میں اس کا انتظام ہو پاتا ہےاتنی دیر میں  عالمی افق پر کوئی نئی ایجاد ودریافت منظرِ عام پر آجاتی ہے اور یوں بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔

اس ساری صورتِ حال سے نکلنے کا واحد حل اسی میں ہےکہ ایک ایسی باصلاحیت قیادت کا انتخاب کیا جائے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کو سب سے زیادہ اہمیت دےاور سکول سے لے کر یونیورسٹیوں تک تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کے لیے صدقِ دل سے کوشاں ہو اور قومی بجٹ کا ایک مناسب حصہّ تعلیم کیلئے مختص کرے ۔

الیکشن سر پر آگئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتاہےکہ لوگوں کے سیاسی شعور  میں اضافہ ہو چکا ہے اوروہ جان چکےہیں کہ اس ملک کو بربادی سے بچانے کےلیے اچھے ،قابل، ایماندار، محنتی اور بےلوث حکمرانوں کا ہونا بہت ضروری ہے جو اس ملک کی سب سے اہم  متاع یعنی دس کروڑ نوجوانوں کے سرمایے کو بہترطورپر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتےہوں اورملک میں قانون اور علم کی حکمرانی قائم کر سکیں ۔ووٹ دیتے وقت اپنے ذاتی مفادیا برادری سے بالا تر ہوکر صرف اور صرف ملکی مفاد کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایسےنمائندوں کومنتخب کریں جو تعلیمی شعبے میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

لکھاری خوارزمی سائنس سوسائٹی کے صدر ہیں

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Afsheen Agha

With proper teaching maths needn’t be a worry to learn

Low scores can erode child’s self-belief, academic achievements

Ali Jan Maqsood

Ghost schools of Balochistan

The village has only one high school with three teachers

Muhammad Fida Hussain Fida

Science teaching needs urgent overhaul

Aimed at passing exams, current methods do not promote thinking

Aisha Sarwari

Girls need pens more than they need rolling pins

There are only 36% schools for girls Pakistan-wide.

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں