الیکشن اور اسکولوں میں پانی کی فراہمی

Muhammad Imran Junejo

اس دفعہ عام انتخابات جولائی کے گرم  مہینے میں ہو رہے ہیں اور آج بھی ملک میں ایسے کئی سکول موجود ہیں جن میں پینے کے پانی سہولت ہی دستیاب نہیں اور ان میں سے کئی اسکولوں میں پولنگ سٹیشن بھی بنیں گے۔ اگرچہ اس وقت ملک کےاکثرعلاقوں میں گرمیوں کی چھٹیاں  چل رہی ہیں لیکن عام انتخابات کے بعد بچے جب سرکاری اسکولوں میں واپس جائیں گے تو ان کو وہی سہولیات سے محروم  اسکول اور سیکھنے کا نامناسب ماحول ملے گا جو وہ دو ماہ پہلے چھوڑ گئے تھے۔ میرے خیال میں  سیاسی اُمیدواروں کی انتخابی مہم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے ۔

آج عوام سے ووٹ مانگنے والے سیاست دان انہی سرکاری اسکولوں میں بننے والی پولنگ اسٹیشنز سے منتخب ہوکر عالیشان عمارتوں والی  قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے۔سب سے  زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ نمائندے اسمبلیوں میں پہنچ کر ان اسکولوں کی بہتری  کیلئےعملی اقدامات نہیں کرتے۔ جو اسکول پولنگ سٹیشن بنائے جاتے ہیں صرف ان کی مرمت و تزئین و آرائش کی جاتی ہے اورالیکشن کے  وقت سجایا جاتا ہے جس کے بعد کوئی بھی ان پر توجہ نہیں دیتا، نہ سیاست دان اور نہ ہی محکمہِ تعلیم۔

Syed Muneeb Ali
تجربے کے بغیر سائنس، سائنس نہیں رہتی
تجربات سائنس کی روح ہیں جن کے بغیر سائنس صرف کتا بی سائنس ہے

ہر الیکشن میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے، زوروشور سے  نعرے لگائے جاتے  ہیں اور  ان نعروں کے جواب میں کھوکھلے وعدے کئے جاتے ہیں۔ مگر اس دفعہ صورتحال  کچھ مختلف ہے اورتعلیم کو ووٹروں کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات میں مناسب مقام ملتا نظر آرہا ہے ۔ حالیہ انتخابات  میں کئی امیدوار وں کے سامنے تعلیم دو، ووٹ لو کا نعرہ لگ چکا ہے اور الف اعلان کی تعلیم دو مہم نے  سیاسی امیدواروں  کو مجبور کردیا ہے کہ وہ ووٹرز کو اپنے تعلیمی ایجنڈے سے آگاہ کریں اور تعلیمی اصلاحات اور معیاری تعلیم کی فراہمی کا عہد کریں۔سیاسی امیدواروں کو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ووٹ لینے کے بعد بھی تعلیم کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ عوام ان سے جواب طلب کریں گے ۔

ہر سیاسی امیدوار اپنی مہم پر لاکھوں روپے خرچ کرتا ہےتو ان انتخابات سے پہلے بھی سیاسی امیدواروں کی جانب سے شعبہِ تعلیم میں بہتری کیلئے اپنی سنجیدگی کا اظہار کیا جاسکتا ہے جس کیلئے سیاسی امیدوار اپنے حلقے کا کوئی ایک اسکول منتخب کرکے اس میں پانی کی فراہمی کیلئے فنڈز مہیا کردے تو ملک کے سینکڑوں سکولوں میں کم از کم  پانی کا  مسئلہ تو حل ہو جائے گا۔  ایسی سرگرمیوں سے عوام کو اپنے نمائندو ں کے انتخاب میں آسانی بھی ہوگی کیونکہ انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ کونسا امیدوار اُن کے بچوں کے مستقبل کیلئے فکرمند ہے اور منتخب ہو کر اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

Elsewhere on Taleem Do

An Alif Ailaan Contributor

Wadhnoor crying out for a middle school

Community in Bahawalpur still waiting for schools for their girls

Alif Ailaan Report

Rawalpindi candidate shy away from specifics

All prefer to focus on the macro and talk in generalities

Ibrahim Shinwari

Only one-fifth of destroyed schools rebuilt in Khyber

Inadequate facilities swelling ranks of out-of-school children

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں