بلوچستان کے سکولوں سے باہر بچے

Ali Maqsood Jan

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے  لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان کی عوام کی اکثریت کسمپرسی کی حالات میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہاں قائم تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے طلباء  کی قابلیت اوسط درجے کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بات اچھی طرح بیان کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لیے بہتر ذریعہ معاش تلاش کر سکتے ہیں۔ پورے صوبے میں غربت کا راج ہے اور یہاں کے قدرتی وسائل کا فائدہ اس صوبے کی عوام کے بجائے دوسروں تک پہنچ رہا ہے۔ اس ناخواندگی کی بڑی وجہ پورے صوبے میں بچوں کی  ایک بڑی تعداد کا سکول نہ جانا ہے۔

یہ بچے کم عمری سے ہی اپنے غریب ماں باپ کی مدد کرنے روزگار حاصل کرکے پیسے بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان وجوہات کی بنا پر صوبے میں کم عمر بچوں کی مزدوری اور کم عمری میں شادی کرنے کا رواج عام ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 70 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا ناخواندہ ہونا بدقسمتی کے ساتھ ساتھ انتہائی افسوس ناک بھی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی نااہلی اور بے پرواہی  ہے۔

کوئی بھی حکمران اس صوبے کے بچوں کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان میں سے بیشتر بچوں اور ان کے والدین کو علم ہی نہیں ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے فوائد کیا ہیں اور والدین یہ بات نہیں سمجھتے کہ پڑھائی کرنے سے ان کے بچوں کا مستقبل کس قدر روشن ہو سکتا ہے۔ دراصل وہ والدین خود پڑھے لکھے نہیں ہیں  اس لئے وہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

Muhammad Aqeel Awan
سائنس کی تعلیم میں خواتین کا حصہ
اس مضمون کامقصد تعلیمی پالیسیوں پرہونے والی بحث کو تبدیل کرنا ہے

ہمارے علاقے میں کچھ بچے سڑک کے کنارے  کوڑا چن رہے تھے  تاکہ وہ کوڑا بیچ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکیں۔ میرے ایک دوست نے ایسے دو بچوں سے دریافت کیا کہ وہ ان بوریوں کو کیوں اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے پاس سکول بیگ کیوں نہیں ہیں اور وہ تعلیم حاصل کرنے کیوں نہ جاتے۔ ان میں سے ایک نے ہنس کر جواب دیا ’آپ کے سکول بیگ اور ہماری بوری میں کیا فرق ہے۔ آپ پیسے دیتے ہیں اور ہم پیسے بناتے ہیں’۔

یہاں گاؤں اور پسماندہ علاقوں میں صورتحال اور بھی خراب ہے اور جگہ جگہ سکول جانے کی عمر کے بچے گلیوں میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔ان علاقوں میں حکومت نے کسی قسم کی کوئی سہولیات فراہم نہیں کی ہیں جن کی مدد سے یہاں کے لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں۔ اگر صرف ٹرانسپورٹ کی سہولت ہی فراہم کردی جائےتو تعلیم تک رسائی کے سنگین مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان وجوہات کی بنا ءپر بلوچ عوام  آج بھی پس رہے ہیں ۔ ہم ایک طویل عرصے سے اس پسماندگی کاشکار ہیں لیکن اب اور نہیں۔ ہم صوبے میں تعلیمی نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں تاکہ ہمارا صوبہ بھی دوسروں کے مقابلے میں کھڑا ہوسکے اور ہمارے صوبے کی بچے بھی ملک  وقوم کی خدمت کرنے کے قابل بن سکیں ۔

دونوں صوبائی اور وفاقی حکومت کے لیے لازمی ہے کہ وہ عوام کی فلاح  کے لیے بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات لائیں اور صوبے کے تمام بچوں کو تعلیم دینے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔

اس مضمون کے مصنف تربت میں عطا شاد ڈگری کالج کے طالبعلم ہیں۔

ترجمہ: عابد حسین

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Shahrukh Wani

The case for a culture of learning

We have spectacularly failed to develop a culture of learning

Shanza Khalid

Ali Muhammad Khan (NA-22) Commits to Focus on Teachers

Zubeida Mustafa

Education — the missing factor

People have a voice even in a flawed democracy and that helps

Mariam Imran

Understand, evaluate rather than rote-learn

Hands-on learning education system can be a weapon of change

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں