بچوں کی عمر اور تعلیمی قابلیت کے درمیان تعلق

Nadia Siddiqui

والدین اور اساتذہ یہ سمجھتے  ہیں کہ کلاس کے ہر بچے کو سکول میں یکساں اہمیت ملتی ہے  اور کلاس کا ہر بچہ سیکھنے کےعمل سے ایک ہی طرح گزرتا ہے۔ توقع  یہ کی جاتی ہے کہ نا صرف سیکھنے کاعمل ہر بچے کے لئے مساوی ہو گا بلکہ ہر بچہ اپنی کلاس کی مناسبت  سے ایک جیسی قابلیت حاصل کرے گا۔ یہ بات  بڑی حد تک درست ہے کہ ہر بچہ سیکھنے کے عمل سے کلاس کے باقی بچوں کی طرح ہی گزرتا ہے مگر قابلیت کے حوالے سے دیکھا جائے توسال کے آخری امتحان میں بچوں میں بہت سے فرق نمایاں ہوتے ہیں- کچھ بچے قابلیت کے لحاظ سے بہت آگے ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی پیچھے جبکہ اکثریت اوسط درجے کی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

 سائنسی تحقیق سےبچوں کے سیکھنے کے عمل اور قابلیت کے درمیان تعلق کے بہت سے ثبوت سامنے آئے ہیں لیکن بچوں کی عمر ایک  ایسااہم عنصر ہے جواکثراوقات مشاہدے سے  بھی واضح نہیں ہوتا کیونکہ ایک کلاس میں پڑھنے والے سب بچے دیکھنے میں ایک ہی عمر کے لگتے ہیں ۔اکثرو بیشتر کلاس کے سب بچے ایک ہی سال کی پیدائش تو ہوتے ہیں مگر مہینے کے لحاظ سے بچوں  کی عمرمیں فرق ہوتا ہے- تعلیمی سال کی شروعات کی تاریخ والے دن پیدا ہونے والے بچے اور صرف ایک دن پہلے پیدا ہونے والے بچے میں تقریبا گیارہ مہینے کا فرق ہو سکتا ہے ۔ٹیبل میں سلیم اور صائمہ میں عمر کا فرق

اس کو مثال سے اس طرح  واضح کیا جاسکتا ہے کہ  اگر سکول میں داخلے کا دن 2 ستمبر 2017  ہے تو اس دن تک پانچ سال کی عمر کےسکول میں داخل ہونے والے بچوں کی عمر کچھ یوں ہو گی

تعلیمی سال کو کسی بھی تاریخ سے شروع کیا جائے  لیکن کلاس کے بچوں میں یہ فرق  ہمیشہ قائم رہے گا۔ برطانیہ میں تعلیمی سال کی شروعات ستمبر میں ہوتی ہے لہٰذا اگست اور جولائی میں پیدا ہونے والے بچے دیگر بچوں سے کم عمر ہوتے ہیں۔

 اس کلاس کے ریکارڈ سے یہ بات واضح ہے کہ کلاس کے بچوں کی عمر میں مہینوں اور دنوں کا فرق ہوتا ہے اور یہی فرق سمجھنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے- بڑی عمر کے بچے نا صرف باقی بچوں سے صحتمنداور قد میں تھوڑا  سالمبے ہوتے ہیں بلکہ باقی بچوں کےمقابلے میں ان کی سمجھنے اور الفاظ کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی کم عمر بچوں سے زیادہ ہوتی ہے-تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کلاس کے چھوٹی عمر کے بچے خراب رویے کا شکار رہتےہیں اوراکثراساتذہ بھی ان کو نالائق یا کمزور سمجھتے ہیں۔بظاہر تو یہ فرق دنوں ، یا  زیادہ سے زیادہ مہینوں کا ہے، لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق بچوں کی تعلیمی قابلیت پر اس فرق کے اثرات ہمیشہ رہتے ہیں۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بڑی عمر کے بچے نا صرف دسویں کے امتحان میں کم عمر بچوں سے آگے ہوتے ہیں بلکہ یونیورسٹی میں داخلے اورقابلیت کے دیگر امتحانات  میں اچھی کارکردگی دکھانے کے علاوہ  روزگار کے بہتر مواقع بھی حاصل کرتے ہیں۔

پہلے  پانچ سال کی تعلیم اور تربیت  بچے کی زندگی پر تاحیات اثرانداز ہوتی ہے -تعلیمی سال کے آغاز کی  تاریخ کی وجہ سے  اگرکم عمر بچے بڑی عمر کے بچوں سے قابلیت میں پیچھےہوں تو ایسے بچوں کو اساتذہ کی خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر اس فرق کو تعلیم کے پہلے پانچ سالوں میں اہمیت دی جائے اور والدین کے  تعاون سے بچوں پرمسلسل توجہ دی جائے تو اس فرق کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی عمر کے اس فرق کو سمجھیں اور تعلیمی قابلیت کا اندازہ لگاتے وقت اس فرق کو سامنے رکھیں۔ اس حوالے سےدنیا کے ترقی یافتہ ممالک قابلیت کو جانچنے کے ایسے معیار مقرر کرنے کا سوچ رہے ہیں  جن میں بچوں کی عمر کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔

ڈاکٹر نادیہ صدیقی اسکول آف ایجوکیشن، ڈرہم یونیورسٹی، یوکے میں اسسٹنٹ پروفیسر(ریسرچ ہیں۔

Elsewhere on Taleem Do

Mohammed Hanif

When language is a bar to learning

Celebrated novelist explains how his school failed all but few

Shanza Khalid

Zafar Iqbal Nagra (PP-109) Pledges to Upgrade 60 Schools

Muhammad Adnan

An overcrowded school in a scenic valley

With over a hundred students per class learning is a challenge

Samar Quddus

The voter should strike while the iron is hot

Conversation with contestants should focus on education reform

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں