تعلیمی اداروں کے یرغمال والدین

Hajrah Mumtaz

جیسے جیسے انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں سے پوچھا  جا رہاہے کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے حالات  کیسے بہتر بنایں گے اور ان کی زندگیوں میں واضح تبدیلی لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔لوگوں کی  زندگی بہتر بنانے کے اہم عوامل میں سے ایک تعلیم ہے، نہ صرف تعلیم تک رسائی، بلکہ اچھے معیار کی تعلیم تک رسائی۔ لیکن افسوس کی بات یہ  ہےکہ  پاکستان میں تعلیمی اشارئیے اور اعداد و شمار تعلیمی نظام کی اچھی منظر کشی نہیں کرتے  ۔

گذشتہ سال ایک سرکاری رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور جو جاتے ہیں، وہ اپنی تعلیم مکمل کیے بغیر  سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سکولوں میں داخلہ لینے والے بچوں میں سے صرف 30 فیصد  بچےپہلی سے میٹرک تک تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر آٹھواں سکول نہ جانے والا بچہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن ان تمام اعدادوشمار سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو حقائق بتاتے ہیں کہ تعلیمی نظام میں تنزلی  اور نصاب کے علاوہ معیارِ تدریس گرنے کی شکایات ہر درجے پر موجود ہیں۔ نصاب میں دقیانوسی مواد کی شمولیت، سکول کی بجائے ٹیوشن پر زیادہ توجہ  اورسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان جیسے مسائل بھی ہر جگہ پر موجود ہیں۔

تو شاید کسی کے ذہن میں سوال اٹھے کے وہ لوگ جو کم از کم کچھ تعلیم حاصل کر رہے ہوں، خواہ اس کا معیار کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہو، وہ ان سے تو بہتر ہی ہے نا جو سکول ہی نہیں جاپاتے ۔اس فرسودہ تعلیمی نظام سے شکایات کرنے والوں کیلئے ایک اہم موقع عام انتخابات  ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اس  نظام میں تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ مگر افسو س کا مقام یہ ہے کہ ایسا ہوتا نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے، بھلے سے وہ کسی بھی طبقے کے لیے مخصوص کیوں نہ ہوں، ایک مافیا کی طرح کام کررہے ہیں اور طلباء اور والدین ان سکولوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

اگر مجھے اپنے بچے کو کسی سکول میں داخل کروانا ہو تو میرے سامنے چند ہزار سے لے کر لاکھوں میں فیس لینے والے تعلیمی اداروں کی فہرست آ جائے گی ۔ اگر میں کسی سکول میں دی جانے والی تعلیم سے خوش نہیں ہوں، تو میرے پاس موقع ہے کہ میں اپنے بچے کو کسی دوسری سکول میں داخل کرا دوں جہاں شاید فیس بھی کم ہو۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس زیادہ آپشن  ہی نہیں ہیں کیونکہ تعلیم کا معیار ہر جگہ ایک جیسا ہے۔

Rasheed Alag
زلزلے سے متاثرہ گرلز اسکول پولیس اسٹیشن منتقل
اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے

اسی طرح، ایک اور شکایت یہ ہے کہ تعلیمی ادارے اپنی فیسیں کبھی بھی، کسی بھی وجہ سے بڑھا دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسی حوالے سے اسلام آباد  میں ایک واقعہ ہوا جہاں ایک معروف سکول نے بلا وجہ  اپنی فیس بڑھا دیاور اس کے خلاف والدین کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ والدین نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہیں لیکن  وہ اپنے بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینا چاہتے ہیں۔

ان مظاہروں کے بعد شہر میں کم از کم یہ گفتگو شروع ہوئی کہ آج کل کے تعلیم اداروں نے کس طرح  والدین کو یرغمال بناکر رکھا ہوا اور ان کی مجبوری سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ بالآخر حکومت  مداخلت پر مجبور ہوئی اور حکومت پنجاب نے ایک قانون منظور کیاجس کے تحت سالانہ فیسوں میں اضافہ کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی گئی ہے۔ پنجاب کے علاوہ، صوبہ سندھ میں بھی اسی طرح کا ایک قانون پاس کیاگیاہے۔ نجی تعلیمی ادارے صرف پڑھانے کی  فیس نہیں لیتے بلکہ انہوں نے فیس کو مختلف خانوں میں تقسیم کیا ہوتا ہے۔ یہ ادارے  قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ٹیوشن فیس صرف مقررہ حد تک بڑھائیں لیکن دوسری چیزوں جیسے لائبریری فیس، یا غیر نصابی سرگرمیاں وغیرہ کی مد میں فیسیں بڑھائیں  تو اس قانون کے نفاذ کا  کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین، جن کو فیس دینی ہوتی ہے، ایک بار پھر سکولوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ چند دہائیوں سے ریاست نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیا ہے اور بنیادی تعلیم نجی اداروں کے حوالے کردی ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار پست سے پست تر ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت نجی  تعلیمی ادارے اس خلا ءکو پر کرتے ہیں اور منافع کماتے ہیں ۔ یہ مسئلہ اس وقت حل ہوگا  جب ریاست اپنی ذمہ داری نبھانا شروع کر دے گی ۔ اگر امراء اور سیاست دانوں کے بچوں کا سرکاری سکولوں میں داخلہ لازم قرار دے دیا جائے تو سرکاری نظام ِتعلیم ٹھیک ہو سکتا ہے ۔

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Amir Imam

School building imperils bright student’s lives

Many rooms in the school are in the same awful state

Aiman Khursheed

Island of excellence

Government should take demonstrable measures to encourage them

An Alif Ailaan Contributor

Searing heat and poor facilities

Murtaza Solangi

From a small study circle to the world classroom

Were schools better in years gone by? Murtaza Solangi explores.

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں