جتنا پیسہ اتنی تعلیم

Salman Buzdar

پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن(پیف) کے سکولوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور کئی لوگ ایسے ہیں جو ان سکولوں کی تعریفوں کے پُل باندھتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن مکمل حقیقت وہ نہیں ہے جو بتائی جاتی ہے ، بہت سے پیف سکول ایسے بھی ہیں جو کہ فروغِ تعلیم اور معیارِتعلیم میں اضافے کی بجائے قوم کے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔صوبہ پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ضلع راجن پور کے نواحی علاقے شکار پور میں موجود پیف سے الحاق شدہ سکول صرف تعداد دکھا کر پیسے بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سکولوں کے منتظمین صرف  اپنے خاندان اوربرادری کے بچوں پر محنت کرتے ہیں جبکہ باقی بچوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔  رزلٹ دکھانے کے لیے صرف چند بچوں کی کارکردگی پیش کردی جاتی ہے جبکہ غریب بچے ان سکولوں سے تعلیم کے نام پر  کچھ بھی نہیں سیکھ رہے۔

Zubeida Mustafa
اساتذہ،جو پڑھاتے نہیں
پاکستان کے اساتذہ میں  تدریس کے جذبے اور لگن کی کمی ہے

 اس حوالے سے جب پیف سکولوں کے  ضلعی کوآرڈینیٹر سے بات کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ جتنا  پیسہ ہمیں پنجاب حکومت کی جانب  سے ملتا ہم اتنا ہی پڑھاتے ہیں۔ جہاں پنجاب کے دیگر اضلاع میں پیف سکولوں کی کارکردگی کی تعریفیں سننے کو ملتی ہیں وہیں  پورے ضلع راجن پور میں پیف سکولوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، صرف دکھاوے کی تعداد اور دکھاوے کا رزلٹ۔ دیگر شعبوں کے طرح تعلیم کے شعبے میں بھی حکومتِ پنجاب کی توجہ صرف بالائی اور وسطی پنجاب تک محدود ہے اور جنوبی پنجاب کو ہمیشہ کی طرح نظرانداز کیا جارہا ہے  جس کی واضح مثال ضلع میں قائم پیف سکولوں کی کارکردگی ہے۔

Elsewhere on Taleem Do

Editor

Parties sign up to education agenda

All major political parties sign the Ailaan-e-Amal charter

Shanza Khalid

Abid Sher Ali (NA-108) Commits to Construct an IT University

Juman Shah

Voter pressure can build better schools

State of infrastructure in Badin is crying out for radical steps

Alif Ailaan Report

Top-ranked Hazara needs more post-primary schools

Gender disparity, lack of specialist teachers to be addressed

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں