دو سو سے زائد بچے کھلے آسمان تلے حصولِ تعلیم پر مجبور

Anwar Yousafzai

کوہستان میں ایک اسکول کے 200 سے زائد بچے سات سال سے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کوہستان خیبرپختونخوا کا وہ ضلع ہے جس کے 25 فیصد سرکاری اسکول عمارت سے محروم ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول  جانس آباد کوہستان کےطلباء پچھلے سات سال سے بغیر عمارت کے اسکول میں پڑھنے پر مجبور  ہیں۔ بارش اور خراب موسم کے صورت میں اسکول کی چھٹی ہوتی ہے۔بلند اور سرسبز پہاڑوں کے درمیان واقع اس اسکول میں 267 بچے زیرِ تعلیم ہیں جس کی نہ چاردیواری ہے اور نہ ہی بچوں کے بیٹھنے کا کوئی انتظام۔ موسم کی شدت کے علاوہ  کھلے میں بیٹھنے کے باعث طلباء کو پڑھائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسکول کے ایک استاد عصمت اللہ نےبتایا کہ وہ اور انکے ساتھی سات سال سے کھلے آسمان تلے بچوں اور بچیوں کو پڑھانے پر مجبور ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ موسم خراب ہو تو اسکول کی چھٹی کرنی پڑتی ہے کیونکہ علاقے میں آس پاس کہیں بھی سر چھپانے کیلئے جگہ نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سینکڑوں طلباء ایسے ہیں جنہوں نے کچی سے پانچویں تک پورے چھ سال اس اسکول میں گزارے  ہیں ۔

عصمت اللہ کا کہنا ہےکہ  مقامی لوگوں نے  لکڑیوں اور ٹین سے ایک کیبن بنایا ہے۔ جہاں اسٹیشنری، بلیک بورڈز، رجسٹرز اور دیگر ضروری سامان رکھا جاتاہے۔اساتذہ اور مقامی لوگوں کے مطابق 2005 کے تباہ کن زلزلے میں گورنمنٹ پرائمری اسکول جانس آباد کی عمارت کو جزوی نقصان  پہنچا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2011 میں شارٹ سرکٹ کے باعث اسکول کی عمارت جل کر راکھ ہوگئی تھی اور تب سے بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

علاقے کے سماجی کارکن حفیظ الرحمان بھی اسکولوں کی ابتر صورت حال کے حوالے سے تشویش کے شکار ہیں انکا کہنا کہ دو منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں لیکن اس اسکول کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے سوال اٹھا یا کہ کیا یکساں نظامِ تعلیم ایسا ہوتا ہےجہاں ایک طرف بچے انگلش میڈیم تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہوں اور انہیں تمام سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف وہ طلباء ہوں جنہوں نے سہولیات تو درکنار پانچویں جماعت تک اسکول کی عمارت ہی  نہ دیکھی ہو ۔

Asma Tariq
لڑکیوں کی تعلیم کیوں ضروری ہے
تعلیم عورت کو خوداعتمادی اور خود پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسکول کی عمارت بنانے کیلئے سیاسی رہنماوں اور محکمہ تعلیم کے افسروں سے کئی بار بات کرنے کی  کوشش کی مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

کوہستان کے  اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ۔ن کے رہنما عبدا لستار مسلسل دو بار رکن قومی اسمبلی  منتخب ہو چکے ہیں۔تعلیم کا محمکہ صوبائی عملداری میں آتا ہے اوررواں ماہ ہونے والے انتخابات میں صوبائی حلقے، پی کے۔25 ، میں 18 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جس میں 14 آزاد  امیدواروں کے علاوہ ایم ایم اے، پاکستان تحریک انصاف، راہ حق پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے امیدوار شامل ہیں۔ کوہستان کی عوام کوا ن امیدواروں میں سے ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا ہوگا جو جانس آباد اسکول سمیت ضلع کے تمام اسکولوں کی بہتری کیلئے عملی اقدامات کرے۔

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی سینسز رپورٹ 2017-2018 کے مطابق کوہستان کے 629 سرکاری اسکولوں  میں سے  162اسکول عمارت کے بغیر کام کر رہے  ہیں جن میں لڑکوں کے 145 اور لڑکیوں کے 17 اسکول شامل ہیں۔ جبکہ مجموعی طورپر پورے   صوبے کے 483سرکاری اسکولوں کی عمارت نہیں ہے۔

انوریوسفزئی

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Peter Frankopan

The wondrous world of learning; disagreeing with Aristotle

Renowned historian insists that school can be fun

Rabia Azfar Nizami

Political commitment in NA-247 (old NA-250)

Schools benefited from elected representatives interest

Zubeida Mustafa

The double disadvantage for girls

Fewer schools, education policy reinforcing bias and disparity

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں