سائنس کی تدریس کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

Muhammad Fida Hussain Fida

دو دن قبل میں اپنے بھائی نعیم کو سکول لے جا رہا تھا جو وہاں پانچویں جماعت کا طالبعلم ہے۔ ہم گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور باہر سڑک کے کنارے لگے ہوئے درخت تیزی سے ہماری نظر سے گزر رہے تھے۔کھڑکی سے باہر ان درختوں  کوگزرتے ہوئے دیکھ کر نعیم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ درخت گاڑی کی مخالف سمت میں کیوں ہل رہے ہیں۔ اس پر میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو جواب دیا کہ ’یہ سوال یاد رکھنا اور سکول میں اپنے سائنس کی ٹیچر سے اس بارے میں پوچھنا۔‘ سکول کے اختتام پر اسے میرے والد گھر لے کر آگئے اور شام میں جب میں خود گھر واپس لوٹا تو میں نے اس سے پوچھا  کہ کیا اس نے اپنے سائنس ٹیچر سے ہلتے ہوئے درختوں کے بارے میں سوال کیا تھا؟ میرے بھائی نے جواب دیا: ’انھوں نے مجھ سے کہا کہ تم ابھی بہت چھوٹے ہو اور تم کو یہ سائنسی عمل سمجھ نہیں آئے گا۔ بس یہ سمجھ لو کہ جب ہم گاڑی میں سفر کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ چیزیں جو ساکت ہوتی ہیں، وہ الٹ سمت میں چل رہی ہوتی ہیں۔‘

یہ صرف میرا بھائی  نہیں ہے جسے ایسے جواب ملتے ہیں بلکہ ہمارے ملک میں سکول جانے والے اکثربچوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ’یہ سائنس کی کتاب میں نہیں ہے، تم ابھی چھوٹے ہو، یہ سوال امتحان میں نہیں آئے گا۔‘ اس قسم کے کئی بہانے بتائے جاتے ہیں لیکن ان کے تجسس کو ان بہانوں سے بہتر جواب ملنے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سکولوں میں سائنس پڑھانے کا مطلب ہے کہ صرف وہ پڑھایا جائے جو کتاب میں لکھا ہواہے۔ اس کے علاوہ طلباء کواور کچھ نہیں بتایا جاتا اور وہ چیزیں جو طلباء کلاس میں پڑھتے ہیں اسے وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ پانچویں جماعت کی سائنس پڑھنے والے طالبعلم کیلئے سائنس کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم روزانہ کے معمول کو کلاس روم میں پڑھائے جانے والے سبق کی مدد سےسمجھانے کی کوشش کریں۔

گذشتہ چھ ماہ میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنے والی تنظیم الف اعلان کی جانب سے منعقد کیے گئے سائنس میلوں میں کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ ان میلوں میں طلباء کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مختلف نوعیت کے سائنسی معموں کا حل تلاش کریں۔ حال ہی میں سوات میں منعقد ہونے والے سائنس میلے میں دیکھا گیا کہ چند لڑکیوں کے ایک گروپ نے پانی سے چلنے والا بجلی گھر بنانے کا خیال پیش کیا۔ اس کے علاوہ چند طلباء نے سمارٹ سٹریٹ لائٹس کا خیال پیش کیا۔ دوسری جانب پانچویں جماعت کے ایک طالبعلم نے ایک تجربہ پیش کیا جس میں پھیپھڑوں پر سگریٹ نوشی کے ہونے والے مضر اثرات کو دیکھایا گیا تھا۔ ان میلوں کے ذریعے بچوں کا تخیل پروان چڑھتا ہے اور وہ نت نئے خیالات سوچنے کے لیے ذہن کا استعمال کرنا سیکھتےہیں۔

اسی طرح فیصل آباد میں منعقد ہونے والے سائنس میلے میں روبوٹس کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں استعمال کرنے کے حوالے سے آئیڈیا پیش کیا گیا اور اس کے علاوہ دیگر کئی تجربات پیش کیے گئے جن کو صرف ایک صفحے پر بتانا ممکن نہیں ہوگا۔ میراسمجھتا ہوں  کہ نہ صرف ان میلوں کا باقاعدگی سے انعقاد ہوتے رہنا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان  میلوںمیں سائنسی مقابلے کروائے جانے چاہییں جن میں اس ضلع کے سائنس کے اساتذہ سائنس پڑھانے کے لیے منفرد طریقے پیش کریں۔

نعیم کی طرح ہمارے کئی ایسے طالبعلم ہیں جو بے حد ذہین ہیں اور کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم ان کے سائنسی طرز سوچ کو بگاڑتے ہیں اور ان کے خیالات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہم انھیں وہی پرانے دقیانوسی سائنسی نصاب پڑھانے میں مصروف ہیں اور ان کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیتے۔ ہمارے اساتذہ صرف انہیں امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں، نہ کہ مستقبل کی زندگی کی تیاری کرواتے ہیں۔ دنیا میں ہر لمحے ایک نئی سائنسی ایجاد یا دریافت ہو رہی ہے، نئی ٹیکنالوجی پیش کی جا رہی ہے، کام کرنے کے بہتر اور موثر طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں آپ تصور کریں کے اب سے  پندرہ ، بیس سال بعد  دنیا بھر کےطلباء کون سے تصورات پڑھ رہے ہوں گے ۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار نہیں کررہے۔یہ لازم ہے کہ ان طلباء کی سائنسی سوچ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور سائنسی بنیادوں پر ان کی  تربیت کی جائے ۔

لیکن ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے سب سے اہم کردار استاد کا ہے۔ ایک قابل سائنس ٹیچر ان طلباء کی تقدیر بدل سکتا ہےلیکن ہمارے سائنس ٹیچر اس حوالے سے پیچھے کیوں ہیں؟ ہمارے اساتذہ سائنس کی ڈگریاں تو لے کر آتے ہیں لیکن ان معلومات کو بچوں تک کیسے پہنچایا جائے،  پڑھایا  کیسےجائے، سائنسی نصاب کیسے مرتب کیا جائے، بچوں کے سیکھنے کو کیسے جانچا جائے، اس بارے میں انہیں کچھ علم نہیں ہوتا۔ سائنس کے اساتذہ  کی مناسب اور جدید تربیت انتہائی ضروری ہے اور اس کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی جانی چاہیے، نہ کہ صرف ہنگامی بنیادوں پر ایک دو مہینے کی تربیت ۔

دنیا بھر میں سائنس کیسے پڑھائی جاتی ہے ؟ اور کیا طریقے ہیں جنھیں اپنا کر بچوں میں سائنس کا شوق بڑھایا جا سکتا ہے؟ کیا سائنس پڑھانے کے لیے کلاس روم سے باہر نکلنا ضروری ہے؟ کیا ہر سبق کے لیے سائنس لیب کا استعمال ہونا چاہیے؟ یہ اور اس جیسے کئی سوالات آج بھی ہمارے ملک میں اساتذہ کے تربیتی پروگرامز کا حصہ نہیں ہیں۔

 مضمون کے لکھاری بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں اور  علم روحی نامی ادارے کے سربراہ ہیں۔

انگریزی سے ماخوذ

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Neha Khan

Teaching maths via fun and games

Learning and understanding makes working out solutions easier

Shanza Khalid

Noor un Nisa Malik (RS) Promising Post-Primary Education

Asmat Kakar

Education delivers a huge dividend

Education is equaliser that can help break the cycle of poverty

Shanza Khalid

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں