سائنس کی تعلیم میں خواتین کا حصہ

Muhammad Aqeel Awan

گذشتہ سال آنے والی عالمی رپورٹ برائے جنسی تفریق کے مطابق پاکستان تعلیم کے لحاظ سے 144 ممالک میں سے 137ویں نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع میسر نہیں  ، خاص طور پر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے میں ان کو زیادہ دشواریوں کا سامنے کرنا پڑتا ہے حالانکہ وہ مردوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ اس کا ثبوت سال 2003 سے 2015 تک پنجاب بیوروآف سٹیٹسٹکس کی رپورٹس سےملتا ہےجس کے مطابق لڑکیوں کی سائنس کے مضامین میں کارکردگی لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔

سال 2003 میں میٹرک میں سائنس کا انتخاب کرنے والی لڑکیوں میں پاس کرنے کا تناسب 75 فیصد تھا جبکہ مجموعی تناسب 54 فیصد تھا۔ سال 2015 میں لڑکیوں کے پاس کرنے کا تناسب بڑھ کر 83 فیصد ہو گیا جبکہ مجموعی تناسب 72 فیصد تک تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ لڑکیوں کی کل تعداد کتنی ہے جو سائنس پڑھنا چاہتی ہیں۔ سال 2015 میں سائنس کا امتحان دینے والے طلباء میں سے 40 فیصد لڑکیاں تھیں۔

2003 سے 2015 تک ہمیں یہ علم ہے کہ سائنس پڑھنے والی طالبات میں اضافہ ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ جنرل مضامین پڑھنے والی طالبات  کی تعداد میں  بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن کی اکثریت ’ہوم اکنامکس‘پڑھنا چاہتی ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف تو طالبات میں تعلیم کے حصول کا رجحان بڑھا ہے اور تعلیمی اداروں میں طالبات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن  اس رجحان سے یہ واضح نہیں ہوتا  کہ ان میں سے کتنی طالبات ایسی ہیں جو سائنس پڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

اگرچہ اس بات کے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہیں  لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ  غریب  گھرانوں کی لڑکیاں ہوم اکنامکس جیسے مضامین  پڑھنے کو ترجیح دیتی ہیں  جس کیلئے ان کے گھر والے ان کو مجبور کرتے ہیں۔ متوسط طبقے کے گھرانے اپنی بچیوں کو سائنس پڑھانے کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں لیکن ان کا مقصد اعلیٰ تعلیم کی بجائے لڑکیوں کے لیے اچھے رشتے تلاش کرنا ہوتا ہے ۔

Muhammad Asif
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
ہمارے ملک میں تعلیم کے شعبے کی ابتری سب کے سامنے ہے

’ڈاکٹر دلہن‘ ایک ایسا تصور ہے جو پاکستانی معاشرے میں ابھی بھی بہت مقبول  ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے والے طلباء میں سے 80 فیصد خواتین ہوتی ہیں، جن میں سے آدھی  سے زیادہ  خواتین پڑھائی مکمل کرنے کے  بعد پانچ سال کے دوران   میڈیکل کی پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں یا ڈاکٹر بننے کے بعد بالکل بھی پریکٹس نہیں کرتی ۔ پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کے مطابق ملک میں 43 فیصد ڈاکٹرز خواتین ہیں اور اسی وجہ سے اس شعبہ کو مردانہ شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ نرسنگ میں البتہ خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کی وجہ بھی یہ سوچ ہے کہ یہ خواتین کا کام ہے۔  غور طلب بات یہ بھی ہے کہ تعلیم کا معیار کیسا ہے۔ بڑی تعداد میں طلباء  کا سائنس کے مضمون کا انتخاب کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سائنس کی تعلیم مناسب طریقے سے دی جا رہی ہے۔ سائنس پڑھانے والے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں ہوتے اور وہ طلباءکو سمجھ کر پڑھنے کی بجائے  رٹا لگانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ دوسری جانب سکولوں میں سائنس کی تعلیم دینے کے لیےمناسب  سہولیات نہیں ہوتیں اور اگر کہیں لیبارٹری موجود بھی ہو یاس میں  مطلوبہ سامان اور آلات نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ پریکٹیکل امتحانات بھی درست طریقے سے نہیں کروائے جاتے اور ان میں نقل کرنے کا رجحان عام ہے ۔

مختلف وجوہات کی بنا پر امتحانات کی تیاری مناسب طریقے سے نہیں کرائی جاتی جس کی وجہ سے بچے مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ اساتذہ کو رشوت دے کر امتحان پاس کریں ۔ حتٰی کہ کالجز اور یونی ورسٹیوں  کی سطح پر ایسا کیا جاتا ہے اور ان سرگرمیوں میں ملوث اساتذہ اور طلباء کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دکھاوے کے طور پر سائنس کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن حقیقت میں کچھ سکھایا نہیں جاتا۔ خواتین کے سائنس پڑھنے پرمعاشرتی اختلاف کے علاوہم معاشرے میں عمومی طور پر بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجاتا ہے۔ عوامی جگہوں پر ان کے جانے کو پسند نہیں کیا جاتا اور انھیں مردوں کے برابر مقام نہیں ملتا۔ معاشرے میں مردوں کو ملنے والا مقام نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا  ہے جو خواتین شناخت کو دباتا ہے اور انہیں ترقی کے کم مواقع فراہم کرتا ہے۔  دوسری جانب تعلیمی اداروں میں خواتین کو  ہراسگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اوران اداروں میں  ہراسگی کی روک تھام کے لیے مناسب قوانین بھی موجود نہیں ہیں اور اگر کہیں قوانین موجود بھی ہیں تو ان کا نفاذ نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں چھ فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی  ان واقعات کی ایک بڑی تعداد رپورٹ ہی نہیں کی جاتی ۔یہاں پر تعلیم کی اہمیت سامنے آتی کہ اگر طلبہ کو جرم اور سزا کے تصور سے آگاہی ہو تو وہ ایسے واقعات  کو روکنے اور رپورٹ کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔

معاشرتی نظام پر مردانہ غلبے کی ایک اور مثال اس طرح دیکھی جا سکتی ہے کہ ایک نوکری پیشہ عورت پر مرد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔ اسے اپنے دفتری کام کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد اس پر اپنے خاوند اور بچوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور پھر اسے گھر کے کام کاج بھی کرنے ہوتے ہیں۔

اس مضمون کا مقصد تعلیمی پالیسیوں پرہونے والی بحث کو تبدیل کرنا ہے ۔ اس وقت  بچوں کے سکولوں میں داخلے کی تعداد بڑھنے یا کم ہونے پر بات کی جارہی ہے  لیکن یہ بحث ملکی تعلیمی مسائل کی مکمل عکاسی نہیں کرتی ۔

اس مضمون کے لکھاری لاہور سکول آف اکنامکس میں ریسرچ اسسٹنٹ ہیں۔

Elsewhere on Taleem Do

Zaheer Udin Babar Junejo

Thar Science Festival 2018

The platform enabled students to showcase their hidden talents

Shanza Khalid

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Muhammed Imran Junejo

When the reality is so stark

Visit small cities and see the conditions of govt. schools there

Shanza Khalid

Zahir Shah Toru(PK-52) Pledges to Focus on Quality Education

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں