شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

Muhammad Asif


ہمارے ملک میں ہر کام حکومت کی ذمہ داریوں میں ڈال کر تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ جب تک حکومت کے ساتھ ساتھ ہم خود اس معاشرےاور ملک کی ترقی کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کریں گے تب تک کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور عام لوگ معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں اور اپنے وقت کا کچھ حصہ فلاحی کاموں کیلئے مختص کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں تعلیم کے شعبے کی ابتری سب کے سامنے ہے اور اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس ابتری کو بہتری میں بدلنے کرنے کیلئے کوئی عملی اقدامات کرتے ہیں۔ اس حوالے سے میرے ذہن میں صرف دو مثالیں ہیں۔ ایک تو اسلام آباد کے ماسٹر ایوب ہیں جو کہ ایک پارک میں کچی آبادی کے بچوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں جبکہ دوسری مثال ہمارے اپنے علاقے فیصل آباد کے تعلیم دوست بزرگ چوہدری اکرام زاہد ایڈوکیٹ ہیں۔

چوہدری اکرام زاہد صاحب کی کاوشوں سے فیصل آباد کے مضافات میں 150 سے زائد بچے مفت  تعلیم حاصل کررہے ہیں اور یہ وہ بچے ہیں جن کا تعلق معاشرے کے پسماندہ طبقے سے ہے۔ ماسٹر ایوب ہوں یا کہ چوہدری اکرام زاہد صاحب دونوں ہمارے معاشرے کے عظیم بزرگ ہیں۔ اس لئے اگر ہمارے بزرگوں میں تعلیم کے فروغ کا اتنا جذبہ ہے تو ہمارے نوجوانوں کو بھی اس حوالے سے سوچنا ہوگا اور آگے بڑھ کر کارِ خیر کے ایسے کاموں میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ تعلیمی اصلاحات اور شعبہِ تعلیم میں بہتری ہم سب کی کاوشوں سے ہی ممکن ہے اس کیلئے صرف حکومتوں پر تنقید کرنا کافی نہیں ہے۔

شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

Elsewhere on Taleem Do

Muhammed Imran Junejo

When the reality is so stark

Visit small cities and see the conditions of govt. schools there

Alif Ailaan Report

Bahawalpur to see steps for better education after elections

Candidates endorse charter of demands calling for quality schools

Zubeida Mustafa

Education — the missing factor

People have a voice even in a flawed democracy and that helps

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں