صرف نام کا ہائی اسکول

Musharaf

تعلیم ایک ایساشعبہ ہے جسے سندھ میں ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اورآج بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ اگر تعلیمی لحاظ سے پاکستان کے صوبوں کی درجہ بندیوں کو دیکھا جائے تو سندھ سب سے آخر میں آتا ہے ۔ کچھ تعلیمی اشارئیوں میں بلوچستان اور فاٹا بھی سندھ سے بہتر ہیں۔ اگرچہ عوام کے شور مچانے سے گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ ٹیچرز کے مسئلے پر توجہ دی گئی ہے لیکن دوسری جانب صوبے کے بہت سے اسکول ایسے ہیں جن میں انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ صوبے کے شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی خراب ہے جہاں پر کئی اسکول آج بھی اوطاق کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

Muhammad Imran Junejo
ٹھٹھہ اب تعلیمی مرکز نہیں رہا
ٹھٹھہ ضلع کے 98 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں ہے

انفراسٹرکچر کی کمی کی بات کی جائے تو گورنمنٹ ہائی اسکول ناری، گاؤں لاکو جندو پتافی، یونین کونسل سونو پتافی، خان پور مہر ، تعلقہ پیر پور ماتھیلو، ضلع گھوٹکی میں کوئی کمرہِ جماعت نہیں اور نہ ہی سکول کی چاردیواری ہے۔ اس کے علاوہ اسکول میں لیٹرین جیسی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ فرنیچر کے نام پر بھی چند ٹوٹی پھوٹی بینچیں موجود ہیں جو بچوں کی ضروریات کیلئے ناکافی ہیں اور بچے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد میں اب چند گھنٹے باقی ہیں، ہمارے ضلع اور سندھ کی عوام کو چاہیے کہ ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ان اسکولوں کی حالت میں بہتری کا عزم رکھتے ہوں اور ووٹ دینے کے بعد بھی ان نمائندوں سے اس حوالے سے جواب دہی کرتے رہیں کیونکہ ہمارے بچوں کا مستقبل معیاری تعلیم سے وابستہ ہے۔

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Zubair Torwali

Scenic valley a letdown for students

Swat-Kohistan keen on girls’ education but too few schools

Ali Jan Maqsood

Hope-deprived children of Balochistan

Steps needed on a war-footing to engender change

Shahrukh Wani

The case for a culture of learning

We have spectacularly failed to develop a culture of learning

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں