لرننگ ڈپریشن کے بارے میں پائی جانیوالی غلط فہمیاں

Amjad Ali Dadda

میں بڑا ہو کر پہلے تو آرمی بطور کیپٹن جوائن کرونگا، تاکہ میری زندگی میں مکمل ڈسپلن آجائے، اس کے بعد میں آرمی چھوڑ کر کنسٹرکشن کا کام کرونگا اور ساتھ ہی ایک کامیاب سیاستدان بنوں گا، یہ جواب تھا اُس پراعتماد نظر آنے والے نوعمر لڑکے کا جو اس وقت میرے سامنے بیٹھا تھا۔ ایک لمحے کیلئے تو مجھے لگا کہ اسکا اعتماد اور ذہنی پختگی مجھ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔تو پھر وہ میرے سامنے اسیسمنٹ سیشن کیلئے کیوں بیٹھا تھا؟

کچھ عرصہ پہلے میں اپنے بچپن کے دوست سےملنے گیا تو اس نے فخر سے بتایا کہ اس کا بڑا بیٹا ملتان کے ایک بڑے سکول سے میٹرک  کر رہا ہے اور اس نے اپنے بیٹے کی ذہانت کی بہت تعریف کی۔ مجھے اس دوست کی باتیں سن کر بہت خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے پسماندہ علاقوں  کےلوگ  بھی اپنے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اپنے دوست کو میں نے اپنے ٹیچنگ اور نیورولنگیسٹک کے ڈپلومازکے بارے میں بھی بتادیا ۔

ایک دن جب میں اس سے ملنے گیا تواس نے اپنے بیٹے کے  ایک مسئلے کے بارے میں بتایا اور مجھ سے مدد کی درخواست کی۔ اس  کے مطابق اس کا بیٹا پچھلے پانچ ، چھ سال سے اردو نہیں لکھ پارہا تھا ۔ میں نے اسے بتایا کہ مکمل اسیسمنٹ کے بغیر تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

ایک ہفتہ بعد میرے دوست نے بتایا کہ اس نے ملتان بیٹے کے سکول جاکر اس کے تمام اساتذہ اور پرنسپل سے بات کر لی ہےاور سب نے یہ کہا ہے کہ آپ کا بچہ اردونہیں لکھ سکتا اور وہ اردو کا امتحانی پرچہ رومن انگلش میں لکھتا ہے اوران کے بقول انکی سالوں کی کوشش کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔اب یہ لڑکا میرے سامنے بیٹھا تھا تاکہ نیورولنگیسٹک یا کسی اور طریقے سے اس کی مدد کرسکوں ۔میں اس سے سکول اور امتحان کا پوچھتا رہا  اوروہ پر اعتماد طریقے سے مجھے تمام تفصیل بتاتا رہا۔ میں نے جب محسوس کیا کہ پروفیشنل تھراپی کیلئے میرا  تعلق ڈیویلپ ہوچکا ہے تو میں اصل موضوع پر آگیا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ جانتا ہے کہ میں اس سے یہ سب باتیں کیوں کر رہا ہوں۔ اس نے کہا وہ جانتا ہے کہ میں  اردو نہیں لکھ سکتا اس لئے آپ مجھ سے بات کر رہے ہو اور مجھے نہیں لگتا کہ اتنے کم وقت میں کچھ بہتری آئے گی کیونکہ  میٹرک  کےامتحانات سر پہ آچکے ہیں۔میں نے اس  کوکہا کہ وہ مجھے اپنے سکول اور اُردو لکھنے میں درپیش مسائل کے بارے میں دو صفحات اُردو میں لکھ کر دے ۔

پہلے تو وہ تھوڑا گھبرایا مگر حوصلہ افزائی کرنے پر اس نے لکھنا شروع کر دیا۔ جب اس نے تقریبا ًایک صفحہ لکھ لیا اور کہا اب مزید نہیں لکھ سکتا تو میں نے اپنے دوست کو کمرے میں بلایا اور پوچھا کہ اس کا کیا اندازہ ہے کہ اس کا بیٹا اُردو لکھنے میں کتنے فیصد غلطیاں کرتا ہے؟ اس نےجواب دیا، اسی سے نوے فیصد ۔پھر میں نے لڑکے سے پوچھا بیٹا آپ کتنے فیصد غلطیاں کرتے ہو؟ اس نے کہا انکل پچانوے فیصد۔میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا کیونکہ اس نے جو لکھا تھا وہ میرے سامنے تھا۔

میں نے اس کے سامنے اس تحریر کی غلطیاں نکالنا شروع کیں۔ ایک سو پینتس الفاظ میں سے صرف آٹھ غلطیاں۔ وہ کبھی اپنے لکھے ہوئے کو دیکھے اورکبھی مجھے جیسے اسے یقین نہ آرہا ہو کہ یہ  حقیقت ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولا مگر میں نصاب کی چیزیں نہیں لکھ پاتا۔ میں نے اسے اردو کی کتاب پڑھنے کو کہا اور اس نے بغیر کسی دقت کے املاء کے ساتھ اُردو پڑھنا شروع کردی۔ میں اس  نوجوان کے مسئلے کوآدھے سے زیادہ حل کرچکا تھا۔ دراصل مسئلہ کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن والدین اور اساتذۃ اس مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے۔ وہ لڑکا چند سالوں سے ایک انجان خوف میں مبتلا تھاجس کے خاتمے کیلئے تین ،چار دن کی پریکٹس ہی کافی تھی۔دیکھا جائے تو یہ ایک چھوٹا  سامسئلہ تھا مگر آگے جا کراس بچے کی زندگی کی ناکامی کا باعث بن سکتا تھا۔اگر ایسے مسائل کے آغازمیں ہی بچوں سے بات کر لی جائے اور ان کا خوف دور کردیا جائے تو سکولوں سے ڈراپ آوٹ ہونے کے مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس طرح کی لرننگ ڈپریشن میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں جن کو دور کرنے کیلئے اساتذہ اور والدین کا بچے کی نفسیات کو سمجھنا لازمی ہے۔ پہلی غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ بچے کی  کسی خاص مضمون میں سیکھنے کی صلاحیت اچھی نہیں تو وہ آسانی سے ٹھیک نہیں ہوسکتی۔دوسری غلط فہمی ،بچہ، استاد اور والدین سب اس مسئلے کو قبول کر لیتے ہیں اور اس کے حل پر توجہ نہیں دیتے۔ تیسری غلط فہمی، اگر مسئلہ کئی سالوں سے موجود ہے تو دنوں میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔چوتھی غلط فہمی ،اگر امتحان قریب ہے تو کچھ نیا سیکھنے کی بجائے رٹا لگا کر امتحان پاس کر لو۔پانچویں غلط فہمی، نفسیاتی علاج سے ایسے کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

ہمیں اساتذہ کی نفسیاتی تربیت کرنی ہوگی تاکہ وہ لرننگ ڈپریشن کے شکار بچوں کی کونسلنگ کرسکیں  اور ہم اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Abbas Nasir

Note from the Editor

The voter must make their ballot choice conditional to TaleemDo!

Mariam Imran

Understand, evaluate rather than rote-learn

Hands-on learning education system can be a weapon of change

Alif Ailaan Report

Matiari resolves to end gender disparity in schools

PPP missing as political convention ratifies education charter

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں