لسبیلہ میں مڈل اور ہائی اسکولوں کی کمی اورڈراپ آؤٹ کا مسئلہ

Bashir Baloch

لسبیلہ میں سکول کے آغاز اور چھٹی کے وقت پر مسافر گاڑیوں کی چھتیں ان طالب علموں سے بھری ملتی ہیں جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اپنے گھر سے اسکول تک کا سفر کرتے ہیں ۔بلوچستان میں مڈل اور ہائی اسکول کی کمیابی کی وجہ سے پرائمری کے بعد بچوں کو ایک طویل فاصلہ طے کرکے مڈل اور ہائی سکول جانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مڈل اور ہائی اسکولوں کی کمی کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد پرائمری کے بعد ڈارپ آؤٹ ہو جاتی ہے ۔جہاں ایک طرف مڈل اور ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے شہر جانے وال طلباء کو مسافر گاڑیوں کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی جانب سے کئے جانے والے ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں پر دوسری جانب حکومتِ بلوچستان کی جانب دس سال قبل سے طلباء کی سہولت کیلئے فراہم کی جانے والی بسیں حب، وندر، اوتھل اور بیلہ میں زنگ آلود ہو کر خراب ہورہی ہیں۔

Farhan Amir
رحیم یار خان کی تعلیمی پسماندگی
تعلیمی ابتری کی وجہ سیاسی نمائندوں کا تعلیم کو ترجیح نہ دینا ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ لسبیلہ میں نہ صرف نئے مڈل اور ہائی اسکول قائم کئے جائیں بلکہ پہلے سے موجود اسکولوں کو اپ گریڈ بھی کیا جائے تاکہ ڈراپ آؤٹ کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹرانسپورٹ کی مرمت اور دیکھ بھال کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ گھر سے اسکول کا طویل فاصلہ بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنے کےعلاوہ ڈراپ آؤٹ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس حوالے سے پچھلے دورِ حکومت میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے تھے اس لئے اس بار لسبیلہ کی عوام ایسے امیدوارں کو ووٹ دیں جو ان تعلیمی مسائل کے حل کیلئے پُرعزم ہوں۔

بشیر بلوچ وندر، ضلع لسبیلہ

 

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Amjad Chauhdry

Teach children to think critically, not to rote learn

Education system is focused on making children rote learning

Murtaza Solangi

From a small study circle to the world classroom

Were schools better in years gone by? Murtaza Solangi explores.

Zubeida Mustafa

Language — conundrum in our education

Studies say mother-tongue best for learning yet we don´t learn

Aisha Sarwari

Girls need pens more than they need rolling pins

There are only 36% schools for girls Pakistan-wide.

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں