نہاگ درہ، اپر دیر میں ہائی سکولوں کی کمی

Hasrat Khan

یوں تو پچھلے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک ِ انصاف کی حکومت نے کافی کام کیااور کچھ شعبوں میں بہتری بھی دیکھنے کو ملی لیکن صوبے کی مجموعی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں لائی جاسکی۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس  میں بہتری کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے لیکن پورے صوبے میں تعلیمی صورتحال  میں اتنی بہتر نہیں آئی  جتنی  کہ بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ خیبرپختونخواہ  کے کچھ علاقوں میں اس حوالے سے بہتری ضرور دیکھنے میں آئی ہے لیکن آج بھی جنوبی خیبرپختونخواہ ، کوہستان، لوئر دیر، اپر دیر  اور شانگلہ جیسے علاقے تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں۔ تعلیمی حوالے سے بہتری دکھانے والے زیادہ تر اضلاع کا تعلق پشاور ویلی یا ہزارہ ڈویژن سے ہے۔

Ubaid Ullah Tahir
تعلیم تک محدودرسائی: ایک گھمبیر مسئلہ
تقریباً 60سے 70 فیصد بچے پرائمری کے بعدتعلیم چھوڑ دیتے ہیں

 میں ضلع اپر دیر ، نہاگ درہ، دولاڑ گاوں  کا رہائشی ہوں اور ہمارا علاقہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے ۔ ہمارے علاقے کی تعلیمی میدان میں پسماندگی کی  بہت سی وجوہات ہیں لیکن انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی وہ وجوہات ہیں بچوں کو سکول سے دور رکھتی ہیں اور سکولوں میں داخل بچوں کو سیکھنے سے روکتی ہیں۔ ہمارے علاقے میں تقریباً آٹھ گاؤں کیلئے صرف  ایک مڈل سکول ہے جس کا نام گورنمنٹ مڈل سکول بانڈی بالا ڈبونوہے۔اس سکول میں  داخل بچوں کی تعداد سکول کی گنجائش سے بہت زیادہ ہے اور ایک کمرہِ جماعت میں دو سو کے قریب لڑکے زیرِ تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ مڈل سکول کے بعد تعلیم جاری رکھنے کیلئے بچوں کو چار سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہائی سکول جانا پڑتا ہے  جس کی وجہ سے کئی بچے مڈل کی سطح کے بعد تعلیم چھوڑ نے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔  حکومت ِخیبرپختونخواہ  اور محکمہ تعلیم سے اپیل کی جاتی ہے کہ بانڈی بالا میں قائم اس مڈل سکول کو اپ گریڈ کرکے ہائی سکول بنایا جائے تاکہ اس علاقے کے بچوں کو  بھی میٹرک کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے ۔

Elsewhere on Taleem Do

Shanza Khalid

Zafar Iqbal Nagra (PP-109) Pledges to Upgrade 60 Schools

Alif Ailaan Report

Girls’ education to be prioritised in Chitral

Candidates sign charter of education demands

an Alif Ailaan Contributor

Good teachers but cramped classrooms

Muhammad Aqeel Awan

Vision for women in science

Elimination of ‘hegemonic masculinity’ seen as vital to progress

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں