نہاگ درہ، اپر دیر میں ہائی سکولوں کی کمی

Hasrat Khan

یوں تو پچھلے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک ِ انصاف کی حکومت نے کافی کام کیااور کچھ شعبوں میں بہتری بھی دیکھنے کو ملی لیکن صوبے کی مجموعی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں لائی جاسکی۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس  میں بہتری کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے لیکن پورے صوبے میں تعلیمی صورتحال  میں اتنی بہتر نہیں آئی  جتنی  کہ بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ خیبرپختونخواہ  کے کچھ علاقوں میں اس حوالے سے بہتری ضرور دیکھنے میں آئی ہے لیکن آج بھی جنوبی خیبرپختونخواہ ، کوہستان، لوئر دیر، اپر دیر  اور شانگلہ جیسے علاقے تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں۔ تعلیمی حوالے سے بہتری دکھانے والے زیادہ تر اضلاع کا تعلق پشاور ویلی یا ہزارہ ڈویژن سے ہے۔

Bilal Hassan
اساتذہ کی تعلیم و تربیت کی اہمیت
استاد کیلئے  بچوں کی نفسیات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے

 میں ضلع اپر دیر ، نہاگ درہ، دولاڑ گاوں  کا رہائشی ہوں اور ہمارا علاقہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے ۔ ہمارے علاقے کی تعلیمی میدان میں پسماندگی کی  بہت سی وجوہات ہیں لیکن انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی وہ وجوہات ہیں بچوں کو سکول سے دور رکھتی ہیں اور سکولوں میں داخل بچوں کو سیکھنے سے روکتی ہیں۔ ہمارے علاقے میں تقریباً آٹھ گاؤں کیلئے صرف  ایک مڈل سکول ہے جس کا نام گورنمنٹ مڈل سکول بانڈی بالا ڈبونوہے۔اس سکول میں  داخل بچوں کی تعداد سکول کی گنجائش سے بہت زیادہ ہے اور ایک کمرہِ جماعت میں دو سو کے قریب لڑکے زیرِ تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ مڈل سکول کے بعد تعلیم جاری رکھنے کیلئے بچوں کو چار سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہائی سکول جانا پڑتا ہے  جس کی وجہ سے کئی بچے مڈل کی سطح کے بعد تعلیم چھوڑ نے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔  حکومت ِخیبرپختونخواہ  اور محکمہ تعلیم سے اپیل کی جاتی ہے کہ بانڈی بالا میں قائم اس مڈل سکول کو اپ گریڈ کرکے ہائی سکول بنایا جائے تاکہ اس علاقے کے بچوں کو  بھی میٹرک کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے ۔

Elsewhere on Taleem Do

Hassnain Qasim Bokhari

Spurt in science festivals

These events help spark curiosity, learning

Zubeida Mustafa

Education — the missing factor

People have a voice even in a flawed democracy and that helps

Shanza Khalid

Arif Mehmood Gill (PP-105) Pledges to Focus on Science Labs

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں