ٹھٹھہ اب تعلیمی مرکز نہیں رہا

Muhammad Imran Junejo

سندھ کی ساحلی پٹی پر واقع ضلع ٹھٹھہ کا ماضی جتنا شاندار تھاحال اتنا ہی تباہ حال ہے۔ ٹھٹھہ شہر سندھ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شاندار کاروباری مرکز ہوا کرتا تھا اور دنیا کے دیگر ممالک سےلوگ اس شہر میں تعلیم حاصل کرنے آتےتھے۔سندھی زبان کی موجودہ حروف تہجی کی بنیاد بھی ٹھٹھہ کے مشہور عالمِ دین مخدوم ابوالحسن نے رکھی تھی  جس کے بعد انگریز سرکار کی جانب سے سندھ میں سندھی زبان کو قومی زبان  کادرجہ دے  دیا گیا تھا۔ مگر آج صورتحال بہت بدل چکی ہے، نہ وہ کارخانے رہے اور نہ ہی وہ درسگاہیں ۔ اِس وقت پورے ضلع میں سرکاری تعلیمی ادارے ویران نظر آتے ہیں۔ ایسے لگتا  ہے جیسے اس شہر کو کسی کی بُری نظر لگ گئی ہے۔

3 جولائی 2018 کو لاڑ ایجوکیشن کیمپین اور  الف اعلان کی جانب سے ٹھٹھہ میں  ایک ایجوکیشن سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع کے  درج ذیل تعلیمی  اعدادوشمارپیس کئے گئے

الف اعلان پاکستان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن رینکنگ 17-2016 کے مطابق ٹھٹھہ ضلع ملک کے 141 اضلاع میں ۔۔سے 96 ویں نمبر پر ہےجبکہ سندھ کے 24 اضلاع میں سے اس کا درجہ 14  واں ہے

ضلع میں موجود سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد 1515 ہےجن میں سے 1442 پرائمری سطح کے اسکول ہیں۔

اِن 1515 اسکولوں میں سے 1237 اسکول لڑکوں کے لئے ہیں جبکہ صرف 278 لڑکیوں کے سکول ہیں۔

سلائیڈ پر جب موجودہ اسکولوں کی تصاویر دکھائی گئیں تو ان کی  حالت زار دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ ٹوٹی پھوٹی عمارتیں اور گندگی سے بھرا ماحول جس کو دیکھ کر کوئی بھی شخص اپنے بچوں کو ان اسکولو ں میں نہیں بھیجنا چاہے گا۔

ٹھٹھہ کے اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی صورتحال درج ذیل ہے

۔94 فیصد پرائمری اسکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں

۔ 98 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں

۔65 فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود نہیں

۔ 54 فیصد اسکولوں کی چاردیواری نہیں

۔ 51 فیصد اسکول صرف ایک کمرہ جماعت پر مشتمل ہیں

ان اعدادوشمار کی روشنی میں آپ  خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں  کہ ٹھٹھہ کے اسکولوں کی حالت کیسی ہے اور ان اسکولوں میں داخل بچوں کو کیسی تعلیم دی جارہی ہے۔

 اِس پروگرام کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی امیدوار بھی  سٹیج پر بیٹھ ٹھٹھہ کے سکولوں کی حالتِ زار دیکھ رہے تھے۔ جس وقت سوالات کا سلسلہ شروع ہوا تو عوام نے ان امیدواروں کو  آڑے ہاتھوں لیا اور  ہر بندہ یہ کہہ رہا تھا کہ چلو ماضی میں جو ہوچکا سو ہوچکا لیکن اب اگر آپ انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو آپ ٹھٹھہ کی تعلیمی صورتحال میں بہتری کیسے لائیں گے ؟  جس کے جواب میں سیاسی نمائندوں کی اکثریت نے ٹھٹھہ کی تعلیمی صورتحال میں بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا۔  سامعین کا یہ بھی کہنا تھا کہ  حکومت کے علاوہ عوام بھی اسکولوں کی خراب حالت کی ذمہ دار ہے جو ووٹ دینے کے بعد اپنے نمائندوں سے تعلیم کی بہتری کا سوال ہی نہیں پوچھتی ۔ ٹھٹھہ کی عوام کو چاہیے کہ اس بار ایسے  لوگوں کا انتخاب  کرے جن کے ایجنڈے میں تعلیم پہلے نمبر پر ہو اور جو ٹھٹھہ کا درخشاں ماضی واپس لاسکیں ۔

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Muhammad Fida Hussain Fida

Science teaching needs urgent overhaul

Aimed at passing exams, current methods do not promote thinking

Sana Samad

Lack of libraries impeding students

Balochistan needs to urgently address this basic need

Alif Ailaan Report

Bahawalpur to see steps for better education after elections

Candidates endorse charter of demands calling for quality schools

Aisha Sarwari

Girls need pens more than they need rolling pins

There are only 36% schools for girls Pakistan-wide.

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں