پاؤں میں چھالے پڑ گئےمگر اعلٰی تعلیم کا عزم زندہ ہے

Zubair Torwali

ہفتے میں ایک ادھ بار راستے میں اس سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ ثانیہ کا گھر میرے گاؤں میں ہی ہے۔ یہ گاؤں پہاڑ پر ہے اور ثانیہ کا گھر اُوپر کی طرف گاؤں کا آخری گھر ہے۔ یہ عام شاہراہ سے چار کلومیٹر دور پہاڑی پر واقع ہے۔ راستہ کچا، پتھریلہ اور دشوار گزار ہے۔ گاؤں کے ہٹے کٹے مرد کو یہاں سے مرکزی شاہراہ تک جانے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ واپس جاتے ہوئے چڑھائی کی وجہ سے یہ پیدل سفر دو گھنٹوں کا ہوجاتا ہے۔

ثانیہ گیارویں جماعت میں پڑھتی ہے۔ اس نے میٹرک بحرین قصبے کے ایک نجی سکول سے کیا ہے۔ اب وہ انٹر کرنے گورنمنٹ گرلز کالج مدین جاتی ہے ۔ مدین بحرین سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر مینگورہ کی طرف واقع ہے۔ ثانیہ کا کالج مدین قصبے سے بھی چار کلومیٹر دور ایک نجی عمارت میں واقع ہے ۔

ثانیہ کے والد اور بڑے بھائی ذہنی طور پر مفلوج ہیں۔ پورے گھر کی دیکھ بھال دوسرے بھائی کے سر ہے جو ایک عرب ملک میں مزدوری کرتا ہے۔ عموماً ، گاؤں کی روایتی زندگی خواتین کے باہر نکلنے پر سخت نالاں رہتی ہےاورکسی جوان لڑکی کے اکیلے آنے جانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اپنے پرائے ایسی کسی حرکت کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ طعنے دیے جاتے ہیں ۔ گھروں میں باتیں ہونے لگتی ہیں ۔ طرح طرح کی چہ میگوئیاں گردش کرتی رہتی ہیں۔ راستوں پہ جوان لڑکوں کی طرف سے فقرے کسنے اور ہراساں کرنے کا خوف ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

مگر ثانیہ یہ سب کچھ سہتی ہے۔ روزانہ آٹھ کلومیٹر کا یہ دشوار سفر پیدل چل کر سڑک پر پہنچتی ہے اور وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر مزید  بارہ  کلومیٹر کا سفرطے کرکے اپنے کالج پہنچ جاتی ہے۔ ثانیہ کو گرمی اور سردی کی بالکل پرواہ نہیں۔ ایک دن راستے پر ملاقات ہوئی تو ثانیہ نے کہا”مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے۔ میں اپنے بھائی کی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے کالج بھیجا اور میرے لیے رقم کا بندوبست کیا۔ میرے پاؤں میں چھالے پڑتے ہیں۔ گرمیوں میں اس پتھریلی راستے سے پہاڑ پہ چڑھنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ اگر میرا کالج قریب ہوتا تو کتنااچھاہوتا! “۔

Fazal Khaliq
A hundred dreams in tattered tents
The school that has never had a building

ثانیہ کے بھائی کو میں جانتا ہوں لیکن اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کسی طرح سوشل میڈیا پر تلاش کرکے رابطہ کیا اور شاباشی دی۔ بھائی نے کہا کسی نے آج تک مجھے ثانیہ کو  تعلیم دلانے کیلئےاچھا نہیں کہا۔ رشتہ دار طعنے دیتے ہیں، گاؤں کے لوگ بے عزت کرتےہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں پیسے ضائع کرتا ہوں کیونکہ لڑکی تو پرائے گھر کی ہوتی ہے۔

ثانیہ نے اپنی تین ساتھیوں کا بتایا جو اسکی کلاس فیلو ہیں اور بحرین کے نواحی گاؤں سے پیدل چل کر مرکزی سڑک  پر آتی ہیں اور وہاں سے گاڑی کے ذریعے اسی کالج جاتی ہیں جہاں ثانیہ پڑھتی ہے۔ ان لڑکیوں کے ساتھ ان کے والد کو بھی روزانہ کالج جانا پڑتا ہے کیونکہ گاؤں کے  روایتی ماحول میں نوجوان لڑکیوں کو سفر کے دوران کسی باڈی گارڈ کی ضرورت  رہتی ہے۔

اب انتخابات کا موسم آچکاہے۔ جرگے ہورہے ہیں، سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ پرانے رشتے ڈھونڈے جارہے ہیں۔ نئے رشتے بنائے جارہے ہیں۔ ایسے میں اس انتخابی حلقے، پی ایس۔2 سوات۔2، کے اُمیدوار ثانیہ کے گھر اس کے والدین اور بھائی کے ووٹ کی خاطر جائیں گے۔ بڑے ادب اور خاکساری سے ملیں گے۔ کوئی اپنا تقویٰ پیش کرے گا تو کوئی اپنی ذات کا واسطہ دے گا۔ کوئی اپنے باپ دادا کی بہادری کی کہانیاں سنائے گا تو کوئی تبدیلی کا وعدہ کرے گا۔ ایسے میں کسی کو ثانیہ اور اس کی سہیلیوں کی فکر ہوگی ؟

بس یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس بار اس حلقے سے برسرِپیکار اُمیدوار تعلیم کی حالتِ زار پرضرور توجہ دیں گے ۔اس حلقے کے بڑے حصّے، سوات ۔کوہستان، میں تقریباًستانوے فیصد لڑکیاں پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑدیتی ہیں کیونکہ اس علاقے میں لڑکیوں کی ثانوی و اعلٰی تعلیم کے لئے سکولز اور کالجز موجود ہی نہیں۔

زبیرتوروالی

ادارہ برائے تعلیم و ترقی بحرین ،سوات

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Alif Ailaan Report

Rawalpindi candidate shy away from specifics

All prefer to focus on the macro and talk in generalities

Hassnain Qasim Bokhari

Spurt in science festivals

These events help spark curiosity, learning

Zubeida Mustafa

Language — conundrum in our education

Studies say mother-tongue best for learning yet we don´t learn

Ibrahim Shinwari

Only one-fifth of destroyed schools rebuilt in Khyber

Inadequate facilities swelling ranks of out-of-school children

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں