پشاور کے سکول محکمہِ تعلیم کی غفلت کا شکار

Muhammad Irshad

خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے حلقہ پی کے۔ 75میں واقع یونین کونسل ڈھیری باغبانان مشتاق آباد میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول 9سال بعد بھی فعال نہ ہوسکا جس کی وجہ سے  مقامی طالبات دور دراز علاقوں میں واقع سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے  پر مجبور ہیں ۔ سال 2009میں عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں ڈھیری باغبانان مشتاق آباد میں لڑکیوں کی پرائمری سکول کا بنیاد رکھا گیا لیکن ناقص منصوبہ بندی اور محکمہِ تعلیم کی غفلت کی وجہ سے سکول کی تعمیر ایک نشیبی علاقے میں  شروع کی گئی ۔ اس سکول کے ساتھ ساتھ  ایک بوائز پرائمری سکول بھی قائم کیا گیا تھا لیکن نشیبی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی سکول کے احاطے میں جمع ہونے لگا تو ٹھیکیدار کی جانب سے سکول مکمل کرکے محکمہ تعلیم کو حوالے کرنے سے پہلے ہی  دونوں سکولوں کامنصوبہ کھٹائی میں پڑگیا ۔

مقامی جنرل کونسلر عارف عمران کے مطابق عرصہِ دراز سے سکول کے احاطے کے اندر اور اس کے اردگرد پانی کھڑا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کی عدم توجہی کے باعث لوگ سکول سے کھڑکیاں اور دروازے بھی چوری کرکے لے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت میں منصوبے کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے بعد 2013میں اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے عارف یوسف ایم پی اے منتخب ہوئے  لیکن انہوں نے بھی پانچ سال تک اس  حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے حالانکہ کئی بار اس  مسئلے کو ان کے نوٹس میں لایاگیا ۔

Adil Maqsood Gill
فرسودہ تعلیمی نظام اور ہمارے خواب
ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس سے پڑھ کر بچے قابل بن سکیں

اس وقت پشاور کے مذکورہ حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سید عاقل شاہ میدان میں ہیں جو کہ 2008سے 2013تک اس حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے رہ چکے ہیں ۔سید عاقل شاہ کے مقابلے میں پی ٹی آئی  کے ملک واجد علی خان ، متحدہ مجلس عمل کے ارباب محمد فاروق جان ، پاکستان راہ حق کے محمد ابراہیم قاسمی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے امیداواروں کے ساتھ ساتھ سکھ رہنما رادیش سنگھ ٹونی بھی اسی حلقے سے  انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ان تمام امیدواروں نے کامیابی کی صورت میں  سکول کے  اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کے عزم  کا اظہار کیا ہے ۔

 دوسری جانب علاقے کے بچوں نے بتایا کہ کہ مذکورہ سکول کے اردگرد پورے علاقے کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کرکے پھینک دیا جاتاہے جس  کی وجہ سے شہریوں کا اس راستے سے گزرنا محال ہوچکا ہے۔ علاقے کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لڑکیوں کے سکول کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ لڑکوں کے سکول پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ کچھ عرصہ قبل ایک بچہ اس سکول کی چھت سے گر کر جاں بحق ہوچکاہے جو کہ چاردیواری نہ ہونے کے باعث سکول کے اندر چلا گیا تھا۔ اس کے علاوہ علاقے کے لوگ بوائز سکول کے دروازے اور کھڑکیاں بھی توڑ کر لے گئے ہیں۔

Rana Awais (PP-193) commits to Focus on Missing Facilities

Mian Irfan (PP-231) Commits to Provide Missing Facilities

Elsewhere on Taleem Do

Hajrah Mumtaz

Held hostage by the profiteers

State has abdicated basic education provision responsibility

Alif Ailaan Report

Education first item on Jhelum candidates’ agenda

All political parties link quality education to nation´s future

Abbas Nasir

Note from the Editor

The voter must make their ballot choice conditional to TaleemDo!

Murtaza Solangi

From a small study circle to the world classroom

Were schools better in years gone by? Murtaza Solangi explores.

آج ہی تعلیم دو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اپنی آواز بلند کریں